میرے شہر کے بچوں کیلئے کون آواز اٹھا ئیگا جو یہاں موجود ہیں اور پاکستان کا نام روشن کرنا چاہتے ہیں انکو ہر میدان میں نظر انداز کیا جارہا ہے،عامر خان

اسپورٹس اینڈ کلچر کمیٹی کی جانب سے آج اس احتجاجی مظاہرے کا انعقاد اس امید پر کیا گیا ہے پی سی بی کے چیئر مین رمیز راجہ شہری سندھ کے نوجوانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا اذالہ کریں گے،عامر خان

ماضی کی طرح سینئر ڈسٹرکٹ اور انڈر 19کراچی کی ٹیموں کے چھ میچ بحال کئے جائیں،کرکٹ میں کوٹہ سسٹم ختم کیا جائے،کلب کرکٹ کو بحال کیا جائے،آصف علی خان

ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب میں کیا
کراچی۔۔18ستمبر2021ء

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے شعبہ اسپورٹس اینڈ کلچرکمیٹی کی جانب سے ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم میں شہری سندھ کے کھلاڑیوں کو شامل نہ کرنے کیخلاف کراچی پریس کلب احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان نے کہا کہ اس وقت پریس کلب پر کراچی کے نوجوان کرکٹر موجود ہیں، جن کے ساتھ زیادتی کی جارہی ایم کیو ایم نے ہر فورم پر جن لوگو ں کے ساتھ زیادتی ہوتی اپنی آواز بلند کی ہے بلاکسی رنگ ونسل کے بغیر کسی تفریق کے اگر زیادتی بلوچستان میں ہوتی ہے یا کے پی کے میں تو ہم نے وہاں کیلئے بھی اپنی آواز بلند کی ہے،میرے شہر کے بچوں کیلئے کون آواز اٹھا ئیگا جو یہاں موجود ہیں اور پاکستان کا نام روشن کرنا چاہتے ہیں انکو ہر میدان میں نظر انداز کیا جارہا ہے،ایک وقت تھا کہ جب کراچی کے نوجوان پاکستان کی قومی ٹیم میں ہوتے تھے اور پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرتے تھے،لیکن بد قسمتی سے شہری علاقوں کے ساتھ ہرسطح پر نسلی تعصب کا مظاہرہ کیا جارہا ہے،زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو ایجوکیشن ہو،ہیلتھ ہو،پولیس ہو کسی شعبہ میں بھی چلے جائیں ہر شعبہ میں زیادتی ہوتی ہے اور اب حد یہ ہے کہ کھیل کے اندر بھی میرٹ کا قتل عام کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسپورٹس اینڈ کلچر کمیٹی کی جانب سے آج اس احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا ہے اس امید پر کہ پی سی بی کے چیئر مین رمیز راجہ ابھی نئے نئے آئے ہیں اور انہوں نے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے جس زمانے وہ کھیلتے تھے قومی ٹیم انہیں پتا ہے شہری علاقوں کے نوجوان کس محنت ارو لگن کے ساتھ کھیلتے تھے اور انہیں کی وجہ سے پاکستان کی ٹیم کامیابی حاصل کرتی تھی۔انہوں نے کہا کہ رمیز راجہ صاحب نئے نئے آئے ہیں اس لیے درخواست کررہے ہیں آپ سے التجا کرتے ہیں رمیز راجہ صاحب آپ کا نام ہے آپ میرٹ کاقتل عام نہیں ہونے دینگے،شہرکراچی میں جونوجوانون کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے خدارااس کا کوئی سدباب کیجئے،جو کھلاڑی اچھی پرفارمنس دیتے ہیں انکو نظر انداز کرنا مناسب نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ فواد عالم کی مثال آپ کے سامنے ہے پہلے دس سال اس کو کھیلنے نہیں دیا گیا اور پھر جب دس سال بعد اس کو موقع دیا تو اس نے دنیا میں جاکر پاکستان کا نام روشن کیا اور تعصب رکھنے والوں کے منہ پر طماچہ ماراافسوس صرف اس بات کا ہے کہ آپ لوگوں نے اپنے تعصب کی بنا پر اس کے دس سال ذائع کردئے،سرافراز احمد جس نے آپ کو چیمپءئن ٹرافی میں کامیابی دلوائی،جس نے آپ کو ٹی ٹوئنٹی میں کامیابی دلوائی مصباح ا لحق اوروقار یونس جیسے لوگوں نے اس کو ٹیم سے باہر کردیا یہ ناانصافی نہیں ہے تو کیا ہے،کراچی کے نوجوانوں کے ساتھ زیادتی کرنے سے پورے پاکستان کا نقصان ہوتا ہے،رمیز راجہ صاحب آپ کو اس طرف دھیان دینا ہوگا۔عامر خان نے مزید کہا کہ آج کے اس احتجاجی مظاہرے سے میں اپنے میڈیا کے نمائندگان کے سامنے کچھ فیکٹس اینڈ فیگر رکھوں گا، سندھ کی گریڈ ٹو کی ٹیم جو زیادہ رنز بنانے کے باوجود ٹیم سے باہر ہیں ان میں فضل سبحان،چار میچ کھیلے 303رنز بنائے،حیدر عباس پانچ میچ کھیلے 342رنز بنائے،یاسر مشتاق نے چار میچ کھیلے243رنز بنائے،عمران شاہ نے چارمیچ کھیلے245رنز بنائے،توسیق احمد نیتین میچ کھیلے 249رنز بنائے،شہزاد حسن نے سات میچ کھیلے474رنز بنائے،قادر خان نے ساتھ میچ کھیلے289رنز بنائے،ان کھیلاڑیوں نے پرفارمنس دی انہوں نے اتنا تنا اسکور دیا اس کے باوجود انکو ٹیم مین شامل نہیں کیا گیا،اس کے بر عکس جن کی پر فامنس بھی ان سے کم ان کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہم اس تعصب کیخلاف ہیں یہ ناانصافی اس کا اذالہ کیا جائے اور کلب کرکٹ کو بحال کیا جائے۔عامر خان نے وزیر اعظم پاکستان اور چیئر مین پی سی بی سے مطالبہ کیا کہ کراچی اور شہری سندھ کے کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا اذالہ کیا جائے انکو کھیلنے کا موقع دیا جائے ورنہ یہ بچے کس کے در پہ جاکر انصاف مانگیں گے۔اس موقع پر اسپورٹس اینڈ کلچر کمیٹی کے انچارج آصف علی خان نے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء کے توسط سے مطالبہ کیا کہ ٹونٹی ولڈکپ میں شہری سندھ کے کھلاڑیوں کو شامل کیا جائے،سندھ کی نااہل ایڈہاک کمیٹی کو برطرف کیا جائے،سندھ کے کوچز اور سلیکٹرزکو فوری طور پر برطرف کیا جائے،ماضی کی طرح سینئر ڈسٹرکٹ اور انڈر 19کراچی کی ٹیموں کے چھ میچ بحال کئے جائیں،کرکٹ میں کوٹہ سسٹم ختم کیا جائے،کلب کرکٹ کو بحال کیا جائے،کلب رجسٹریشن کے معاملے کو آسان بنایا جائے۔اس موقع پر حق پرست اراکین قومی اسمبلی ڈپٹی اقبال،اسامہ قادری نے بھی خطاب کیا۔جبکہ احتجاجی مظاہرے میں اراکین رابطہ کمیٹی ارشاد ظفیر،شکیل احمد،زاہد منصوری،اسپورٹس اینڈ کلچر کمیٹی کے اراکین اور کراچی کے کھلاڑیوں اورکرکٹ آرگنائزر نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔