کراچی۔۔۔24ستمبر 2021ء

ایم کیو ایم پاکستان کی ڈپٹی کنوینر نسرین جلیل نے پولیس کے ہاتھوں ویکسینیشن کارڈ کی عدم دستیابی پر اندھا دھند ہونے والی گرفتاریوں اور کراچی سمیت شہری علاقوں کے عوام سے بھاری بھتہ وصول کرنے کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سندھ کی متعصب و بدعنوان حکومت اور انتظامیہ نے سندھ کو پولیس اسٹیٹ بنا دیا ہے مخصوص علاقوں میں پولیس ناکے لگا کر عوام کو ہراساں کر رہی ہے اور ان سے ویکسینیشن کارڈ طلب کر رہی ہے اور بھتہ نہ ملنے کی شکل میں گرفتار کر کے ایف آئی آر درج کر رہی ہے یہ عمل بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور یہ آئین کی پامالی بھی ہے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سندھ حکومت گھر گھر جا کر عوام کو ویکسین لگاتی نہ کہ بھونڈے انداز میں گرفتاریاں عمل میں لاتی۔نسرین جلیل نے آئی جی سندھ کے غیر قانونی حکم کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے چیف جسٹس سپریم کورٹ، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ،وزیر اعظم پاکستان اور وفاقی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ سندھ پولیس کی پولیس گردی روکی جائے اور حکومت سندھ کو آئین کے انحراف سے روکا جائے او ر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔