ایم کیو ایم پاکستان کے تر جمان نے با رش کے بعد کی صورتحا ل پر تبصرہ کر تے ہو ئے کہا کہ سندھ کی متعصب حکو مت اور بلد یہ عظمی کر اچی جسے ایڈمنسٹر یٹر کے ذریعے چلا یا جا رہا ہے انکی کر کا ردگی ایک سوالیہ نشان ہے؟با رش کے پا نی کی نکا س کا مسئلہ ہو یاصفا ئی ستھر ائی کا اس میں بلد یہ عظمی کر اچی اور حکو مت سندھ مکمل طو ر پر ناکام نظر آتی ہے جا بجا سوریج کا پانی سڑکو ں پر پھیلا ہو ا ہے اور فر اہمی آب کی لائنیں بھی بری طر ح متا ثر ہیں مو جو دہ بلد یا تی نظام کو ایک سال سے زائد کا عر صہ گزر گیا ہے اختیارات اور وسائل کے با وجو د انکی ناکامی سب کے سامنے ہے عوام بلد یا تی مسائل سے بیزار نظر آتے ہیں حکو مت سندھ نا تو بلد یا تی انتخا با ت کر انے کو تیار ہے اور نہ ہی کر اچی کے عوام کو ریلیف فر ا ہم کر نے کو تیار ہے سندھ حکو مت کو کر اچی کو ڈھا ئی سو ارب روپے ما ہا نہ ٹیکس ادا کر تا ہے اور عوام ہر قسم کی سہو لیا ت سے محروم ہیں چیف جسٹس سندھ ہا ئی کو رٹ اور وزیر اعظم پاکستان سے مطا لبہ کر تے ہیں کہ اس نا اہلی کا نو ٹس لیا جا ئے اور کر اچی کے عوام کو ریلیف فر اہم کر نے کیلئے ضروری احکاما ت صادر کئے جا ئیں ۔