کے ایم سی کے353 ارب روپے آکٹرائے ٹیکس کی مد میں آج بھی سندھ حکومت پر واجب الادا ہیں اگر آکٹرائے کا جائز شیئر کراچی کو مل جائے تو ہم انکو امداد دیں گے،وسیم اختر

جب تک منتخب بلدیاتی حکومت نہیں آتی تب تک کے الیکٹرک سے یہ معاہدہ نہیں کیا جا سکتا، سندھ حکومت قبرستان کے پیسے بھی ہڑپ کر رہی ہے،وسیم اختر

ایس یو جی کے لوگ کراچی میں آکر قبضہ کر کہ بیٹھ گئے ہیں اور کراچی کے لوگ نوکری و دیگر سہولیات کیلئے در بدر بھٹکنے پر مجبور ہیں،وسیم اختر

اب وقت آگیا ہے کہ سندھ سیکریٹریٹ کو دادو لے جائیں اور کراچی والوں کیلئے کراچی سیکریٹریٹ جلد از جلد بنایا جائے،وسیم اختر

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ڈپٹی کنوینر وسیم اختر کا مرکز بہا در آباد پر پریس کانفرنس سے خطاب
کراچی۔۔10ستمبر2021ء

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ڈپٹی کنوینر وسیم اختر نے کہا کہ سندھ گورنمنٹ جس طرح اپنی پالیسی بنا رہی ہے وہ بیڈ گورنس اور بیڈ پالیی کے تحت بنا رہی ہے،سندھ گورنمنٹ چاہتی ہے کہ کے ایم سی کے سارے ادارے اپنے پاس رکھے اورہم چاہتے ہیں کہ کراچی کے عوام کو بھی علم ہو کہ انکے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے جس طرح کے الیکٹرک کے بل میں کنزروینسی ٹیکس کراچی کے عوام پر زبردستی ڈالا جارہا ہے اگر عوام یہ ٹیکس جمع نہیں کرسکیں گے تو انکی بجلی کاٹ دی جائیگی ان خیالات کا اظہار ایم کیو ایم پاکستان کے ڈپٹی کنوینر وسیم اختر نے بہادر آباد مرکز پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔وسیم اختر نے مزید کہا کہ دو دن پہلے میڈیا کے توسط سے پتہ چلا کہ سندھ گورنمنٹ کنزروینسی ٹیکس لینے کا پلان کر رہی ہے کنزروینسی ٹیکس 2006 سے 10 کے درمیان کونسل قراردادکے ذریعے عمل میں آیااس وقت واٹر بورڈ اور دیگر ادارے میئر کے ماتحت تھے اس وقت تک عوام وہ ٹیکس دے رہی تھی اور تمام کام بخوبی انجام پا رہے تھے2013 کے بعد ایس ایل جی 2013 کا ایکٹ آیا2016 میں جب میں میئر بنا شہر میں کچرے کے انبار تھے جب ہم نے ایم یو سی ٹی کا ٹیکس نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تو عوام نے انکار کیاکیوں کہ اسوقت صفائی ستھرائی کا نظام تباہ حال تھااس وقت سندھ سول آکٹرائے کا پیسہ انکو ملتا ہے جس کا احسان جتاتے ہیں کہ جیسے ایم سی اور ڈی ایم سی کو دیتے ہیں، آکٹرائے کا شیئر بھی کے ایم سی کو پورا نہیں دیتے کے ایم سی کے353 ارب روپے آکٹرائے کی مد میں آج بھی سندھ حکومت پر واجب الادا ہیں اگر آکٹرائے کا جائز شیئر کراچی کو مل جائے تو ہم انکو امداد دیں گے۔وسیم اختر نے مزید کہا کہ بلاول زرداری صاحب کو افغانستان کی پڑی ہے لاڑکانہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے کہتے ہیں کہ افغانستان پر جوائنٹ سیشن بلوائیں انکو سندھ نظر نہیں آرہاکراچی پر جوائنٹ سیشن کال کیوں نہیں کرتے اب تو تھر کیلئے بھی جوائنٹ سیشن بلا لینا چاہئے یہ لوگ اور جب تک منتخب بلدیاتی حکومت نہیں آتی تب تک کے الیکٹرک سے یہ معاہدہ نہیں کیا جا سکتا،سندھ حکومت قبرستان کے پیسے بھی ہڑپ کر رہی ہے اور کرونا وبا کی ویکسین پر بھی دھاندلی کی جا رہی ہے ایس یو جی کے لوگ کراچی میں آکر قبضہ کر کہ بیٹھ گئے ہیں اور کراچی کے لوگ نوکری و دیگر سہولیات کیلئے در بدر بھٹکنے پر مجبور ہیں اب وقت آگیا ہے کہ سندھ سیکریٹریٹ کو دادو لے جائیں اور کراچی والوں کیلئے کراچی سیکریٹریٹ جلد از جلد بنایا جائے اور یہ بات سب یاد رکھیں کہ ہمارے آباؤ اجداد نے اپنی جانوں کا نظرانہ دیکر اس ملک کو بنایا ہے اس شہر کو بسایاہے اگر اس شہر کے لوگ اپنے حقوق کیلئے اٹھ گئے تو سب کہینگے کہ یہ دہشتگرد ہیں ہم کو سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے پر مجبور نہ کریں۔وسیم اختر نے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ،آرمی چیف،وزیر اعظم پاکستان اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ ہونے والے زیادتیوں اور نا انصافیوں کاکا نوٹس لیں اور سندھ حکومت سے ہماری جان چھڑائیں۔اس موقع پر سابق ڈسٹرکٹ چیئرمینز بھی موجود تھے۔