مرتضی وہاب کراچی پر نئے ٹیکس کی حمایت کے بجائے کے ایم سی پر احسان کریں اور کے ایم سی کے اختیارات وزیراعلی سے واپس لائیں،وسیم اختر

میئر شپ سے ہٹے ا یک سال کا عرصہ ہوگیا جبکہ اب تک تین ایڈ منسٹر یٹر تعاینات ہوچکے ہیں مگرکہیں بہتری نظر نہیں آتی،وسیم اختر

ایڈمنسٹریٹر کراچی شہر کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے بوٹ بیسن کو فوڈ اسٹریٹ بنانے کے منصوبے بنارہے ہیں،،وسیم اختر

ان خیالات کا اظہاروسیم اخترنے کراچی پریس کلب پر سابق ڈپٹی میئر کراچی ارشد حسن،سابق ضلعی چیئرمینز کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس میں کیا

کراچی۔۔17ستمبر2021ء

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر و سابق میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ کے ایم سی کے فنگشن اور کے ایم سی کے وسائل پر حکومت سندھ قبضہ کر رہی ہے مختلف طور طریقے اپناکر،آنے والے وقت میں سندھ حکومت مختلف نوٹیفکیشن کے ذریعے کے ایم سی کے باقی ادارے بھی اپنے اندر میں لینے کی سازش کر رہی ہے، آرٹیکل 140Aکو جس طرح سے امپلیمنٹ کرنا تھاوہ نہیں کیا گیاہم نے اپنے چار سالہ دور میں سڑکیں بنائیں،ہم نے پارکس بنائے اور جو افتتاح آج کے ایڈمنسٹریٹر کر رہے ہیں یہ بھی ہمارے بجٹ سے کام شروع ہوا تھا یہ ہمارے منصوبے تھے،تیرہ سال سے تمام محکمے سندھ حکومت نے اپنے قبضے میں لیے ہوئے ہیں،مجھے میئر شپ سے ہٹے ا یک سال کا عرصہ ہوگیا ہے جبکہ اب تک تین ایڈ منسٹر یٹر تعاینات ہوچکے ہیں،آج نئے ایڈمنسٹریٹر کو بھی ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا مگربہتری نظر نہیں آتی،جو کام ہم نے کرے تھے وہ بھی تباہ کردئے گئے ہیں،کے ایم سی کے وسائل پر سندھ حکومت مزید قبضہ کررہی ہے آئندہ چند دنوں میں کے ایم سی کے باقی محکمے بھی سندھ حکومت ہتھیالے گی،ایم کیوایم پاکستان کے چارسالہ دور میں سڑکیں پارک سمیت متعدد منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے،این ایف سی ایوارڈ کا سارا پیسہ وزیراعلی سندھ اپنے پاس رکھ کر بندربانٹ کردیتے ہیں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے کراچی پریس کلب پر سابق ڈپٹی میئر کراچی ارشد حسن،سابق ضلعی چیئرمینز کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس میں کیا۔وسیم اختر نے کہا کہ کنزروینسی ٹیکس کراچی کے عوام اس لئے نہیں دیتے کہ یہاں بنیادی سہولیات ہی میسر نہیں،سندھ حکومت زور زبردستی سے کراچی کے عوام پر نئے ٹیکس لگاکرانکی بجلی بھی بندکرنا چاہتی ہے،مرتضی وہاب کراچی پر نئے ٹیکس کی حمایت کے بجائے کے ایم سی پر احسان کریں اور کے ایم سی کے اختیارات وزیراعلی سے واپس لائیں،قانون کے مطابق سندھ حکومت کراچی سے جو بھی ٹیکس جمع کریگی اسکا کچھ حصہ کے ایم سی کو دیاجائیگا جبکہ نہیں دیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی شہر کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے بوٹ بیسن کو فوڈ اسٹریٹ بنانے کے منصوبے بنارہے ہیں،طارق روڈ،یونیورسٹی روڈ سمیت ان کی بنائی ہوئی تمام سڑکیں تباہ حال ہیں،سپریم کورٹ میں کھڑے ہوکر کہا تھا کہ نالے صاف کرنے سے قبل کچرے کو ٹھکانے لگانے کا منصوبہ مکمل ہونا چاہیے،ہسپتالوں پر قبضے کے بعد اب سندھ حکومت کراچی کے قبرستان بھی ہتھیا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے ایم سی کے اداروں پر قبضہ کرنے سے قبل بتائے کہ کیا انکا ایم ڈی اے، سندھ بلڈنگ،سولڈ ویسٹ منصوبہ کامیاب ہوا؟کراچی کے تمام اثاثے سندھ حکومت لوٹنے جارہی ہے،پیپلزپارٹی کا طریقہ واردات ہے کہ بیوروکریٹ سیاستدان اور ٹھیکہ دار سب انکے گھر سے ہی ہوتے ہیں،لاڑکانہ سہون بینظیر آباد کا حال کون ٹھیک کرے گا،پیپلزپارٹی اور اسکی سندھ حکومت نہ خود کام کرتی ہے نہ دوسروں کو کرنے دیتی ہے،کے ایم سی کے آفسران کو پوسٹنگ سے ہٹاکر ایس یو جی سے لوگوں کو مسلط کیاجارہا ہے۔وسیم اخترنے کراچی کے تمام زبانیں بولنے والوں سے درخواست کی کہ اپنے حق کیلئے کھڑے ہوں ورنہ سندھ حکومت شہر کراچی کو بھی لاڑکانہ کی طرح موہنجو داڑو میں تبدیل کردی گی۔