نوید عباسی کے اغواء اور پولیس کی مجرامانہ خاموشی پر ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کا اظہارِ تشویش
ایک بار پھر کارکنان کی جبری گمشدگی کا سلسلہ شروع ہونا ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے، رابطہ کمیٹی
ہمیں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ ایم کیو ایم کا کارکن ہونا جرم ہے، رابطہ کمیٹی
وزیر اعظم پاکستان اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس حیدرآباد ڈسٹرکٹ کے سینئر جوائنٹ انچارج نوید عباسی کے اغواء کا نوٹس لیں، رابطہ کمیٹی

کراچی۔۔۔۔۔29 اکتوبر، 2021ء

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے حیدرآباد زون کے سینئر جوائنٹ انچارج نوید عباسی کے اغواء پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رابطہ کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ دو روز قبل نوید عباسی کے گھر کے پاس سے سادہ لباس میں ملبوس افراد ڈبل کیبن گاڑی میں انہیں اغواء کر کے لے گئے ہیں اور مقامی پولیس بازیابی کیلئے کسی قسم کی کوئی قانونی کاروائی نہیں کررہی ہے۔ اگر نوید عباسی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں میں سے کسی ادارے نے کسی جرم میں گرفتار کیا ہے تو انکی گرفتاری ظاہر کی جانا چاہئے اور قانون کے مطابق کاروائی ہونا چاہئے۔ حیدرآباد کے کنٹونمنٹ انتخابات میں شہر کی ستر فیصد نمائندگی ثابت ہونے کے بعد ایسے غیر قانونی عمل سے ہمیں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ ایم کیو ایم کا کارکن ہونا جرم ہے۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان پہلے ہی اپنے کارکنان کی جبری گمشدگی کا غم جھیل رہی ہے اور سینکڑوں کارکنان کے اہلِ خانہ اب بھی اپنے پیاروں کی واپسی کی راہ دیکھ رہے ہیں ایسے حالات میں ایک بار پھر کارکنان کی جبری گمشدگی کا سلسلہ شروع ہونا ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے اور یہ دیکھنا ہوگا کہ کہیں یہ پرامن کارکنان کو اشتعال دلانے کی سازش تو نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے اداروں کا احترام کرتے ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ ہمارے کارکنان کے ساتھ بھی دوسرے سیاسی کارکنان جیسا آئینی اور قانونی رویہ روا رکھا جائے گا۔ رابطہ کمیٹی نے وزیر اعظم پاکستان اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ حیدرآباد ڈسٹرکٹ کے سینئر جوائنٹ انچارج نوید عباسی کے اغواء کا نوٹس لیں اور انہیں فی الفور بازیاب کروایا جائے۔