کراچی۔۔29ستمبر 2021ء

میڈیکل کالجز کے طالبعلموں کے وفد کی اے پی ایم ایس او کے مرکزی اراکین سے ملاقات کی۔اس موقع پر مرکزی کمیٹی نے اپنے بیان میں کہاکہ پی ایم سی کی غفلت کی بناء پر میڈیکل کالجز سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طلباء کا مستقبل تاریک ہوتا دکھائی دے رہا ہے طالبعلموں سے رجسٹریشن کے نام پر کروڑوں روپے کمائے جاتے ہیں امتحان کے دوران کئی مرتبہ آن لائن سسٹم بند ہوا،وائے فائے مسلسل متاثر رہا سیلیبس کے باہر سے سوال پوچھے گئے یہ تمام چیزیں ناقص نظام کی جانب نشاندہی کرتی ہیں طالبعلموں کے ساتھ زیادتیاں کب تک ہوتی رہیں گی؟ آگر طالبعلم احتجاج پر بیٹھے تو نہتے طالبعلموں پرآنسو گیس اور شیلنگ کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ پچھلے برس بھی پی ایم سی کی جانب سے ایسی ہی غلطیاں رونما ہوئی تھیں اور اے پی ایم ایس او نے ہی میڈیکل کے طلباء کی حق تلفی کے خلاف آواز اٹھائی تھی گورنر سندھ عمران اسماعیل صاحب کو پچھلے برس بھی تمام مسائل سے آگاہ کیا تھا اور 250 سے زائد طلباء کا مستقبل تاریک ہونے سے بچایا تھا ہماری نیب اور دیگر اداروں سے گزارش ہے اس ٹیپس نامی ادارے کی جانچ پڑتال کی جائے،ہم وزیر اعظم پاکستان،چیف جسٹس آف پاکستان سے پر زور اپیل کرتے ہیں اس معاملے میں فلفور سنجیدگی دیکھائیں اور جتنی جلدی ممکن ہو ایک کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ ہزاروں طالبعلموں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچایا جائے۔