لاڑکانہ اور اندرون سندھ کے کسی بھی شہر میں کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا، وسیم اختر

کب تک اس شہر کے محکمو ں کو لوٹا جاتا رہے گاکراچی کی عوام نہیں چاہتی کہ سندھ حکومت ہمارے حق پر ڈاکاڈالتی رہے، وسیم اختر

کراچی ڈھائی سو ارب روپے سالانہ صوبہ کو ادا کرتا ہے لیکن اس وقت کراچی بے یارومدد گار ہے کوئی پرسان حال نہیں، محمد حسین

ایم کیوایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر و سابق میئر کراچی وسیم اخترکا مرکز بہادر آباد پر اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب

کراچی۔۔23ستمبر2021ء

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر و سابق میئر کراچی وسیم اختر نے مرکز بہادر آباد پر اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کے ایم سی فائر کنزروینسی ٹیکس کو کے-الیکٹرک کے بلوں میں ضم کرنے پر وفاقی حکومت، گورنرسندھ اور کراچی کی عوام نے سختی سے مسترد کردیاتھا، کب تک اس شہر کے محکمو ں کو لوٹا جاتا رہے گا کراچی کی عوام نہیں چاہتی کے سندھ حکومت ہمارے حق پر ڈاکاڈالتی رہے، لاڑکانہ اور اندرون سندھ کے کسی بھی شہر میں کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا جاتایہ واحد شہر ہے جو سب سے زیادہ ریونیو وفاق اور سندھ حکومت کو ادا کرتا ہے اصولاً تو ہونا یہ چاہئے کہ جس شہر سے ٹیکس وصول کیا جائے وہ اسی شہر کی عوام کے فلاح وبہبود کیلئے لگایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آکٹرائے ضلع ٹیکس سمیت کے ایم سی کے جتنے ریونیو کے ادارے ہیں وہ سندھ حکومت نے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں، جبکہ کے ایم سی جو ریونیو جمع کرنے کہ ذرائع ہیں وہ کے ایم سی کو ملنے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کے-الیکٹرک کراچی کی عوام کا سب سے ناپسندیدہ ادارہ ہے جس نے عوام کا جینا دوبھر کرکے رکھ دیا ہے، اگر کے- الیکٹرک بل میں فائر کنزروینسی ٹیکس بھی لگ کر آنا شروع ہوگیا توکراچی کی عوام بجلی کا بل بھی دینا بند کر دے گی۔ وسیم اختر نے فیڈرل گورنمنٹ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر اس بل کو مسترد کرنے کے احکامات صادر کریں اور اس ڈکیتی میں سندھ حکومت کا ساتھ نہ دیں۔ اس موقع پر رکن رابطہ کمیٹی محمد حسین نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی ڈھائی سو ارب روپیصوبہ کو اور پچیس سو ارب روپے سے زائد سالانہ وفاق کو ادا کرتا ہے لیکن اس کے باوجود کراچی بے یارومدد گار ہے اور اس شہر کا کوئی پرسان حال نہیں، گھروں سے کچرابلدیاتی اداروں کو اٹھانا چاہئے لیکن اس کے برعکس عوام اپنی مدد آپ کے تحت کچرا اٹھوا رہی ہے،تعلیم کا نظام تباہ وبرباد ہوچکا ہے، پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے، سیکیورٹی کی صورتحال نامناسب ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کی عوام اب سوچنے پر مجبور ہیں کہ اندرون سندھ کی طرح ہم بھی ٹیکس ادا نہ کریں۔